دل شکن
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - ہمت پست کرنے والا، دکھ دینے والا، دل توڑنے والا۔ "ہمارے معاشرے میں صبح و شام کتنے دل شکن واقعات ہوتے رہتے ہیں۔" ( ١٩٨٠ء، تشنگی کا سفر، ٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'شکستن' مصدر سے فعل امر 'شکن' لگا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو "عقل و شعور" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہمت پست کرنے والا، دکھ دینے والا، دل توڑنے والا۔ "ہمارے معاشرے میں صبح و شام کتنے دل شکن واقعات ہوتے رہتے ہیں۔" ( ١٩٨٠ء، تشنگی کا سفر، ٧ )